16

درودپاک پڑھنے والی مکھی

ایک دن آقا ئے دوجہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم اسلامی لشکر کے سا تھ جہاد کے لئے تشریف لے جا رہے تھے را ستے میں ایک جگہ پڑاو کیا اور حکم دیا کہ یہیں پر جو کچھ کھا نا ہے کھا لو ۔جب کھا نا کھا نے لگے تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ!روٹی کے ساتھ سالن نہیں ہے پھر صحابہ نے دیکھا کہ ایک شہد کی مکھی ہے اور بڑے زور زور سے بھنبھنا تی ہے عرض کیایا رسول ﷺ! یہ مکھی کیوں شور مچاتی ہے؟ فر ما یا یہ کہہ رہی ہے کہ مکھیاں بے قرار ہیں اس وجہ سے کہ صحابہ کرام کے پا س سا لن نہیں ہے حا لانکہ یہاں قریب ہی غار میں ہم نے شہد کا چھتہ لگا یا ہوا ہے وہ کو ن لا ئے کیوں کہ ہم تو اسے لا نہیں سکتیں۔پھر فر ما یا :پیا رے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس مکھی کے پیچھے پیچھے جاو اور شہد لے آو چنانچہ حضرت حیدر کرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک چوبی پیالہ پکڑکر اس کے پیچھے ہو لئیے وہ مکھی آگے آگے اس غار میں پہنچ گئی اور آپ نے وہاں جا کر شہد صاف مصفا نچو ڑ لیا اور دربار ر سالت ﷺ میں حا ضر ہو گئے.سر کا ر دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے وہ شہد تقسیم فر ما دیا :جب صحابہ کر ام کھانا کھا نے لگے تو مکھی پھر آگئی اور بھنبھنا نا شرو ع کر دیا ۔صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ !ﷺ مکھی پھر اسی طرح شور کر رہی ہے تو فر ما یا میں نے اس سے ایک سوا ل کیا ہے اور یہ اس کا جو اب دے رہی ہے میں نے اس سے پوچھا ہے کہ تمہاری خوراک کیا ہے ؟ مکھی کہتی ہے کہ پہاڑوں اور بیانوں میں جو پھول ہو تے ہیں وہ ہما ری خوراک ہے۔میں نے پو چھا پھول تو کڑوے بھی ہو تے ہیں پھیکے بھی بد مزہ بھی ہو تے ہیں تو تیرے منہ میں جا کر نہا یت شیریں اور صاف شہد کیسے بن جاتا ہے ۔ تو مکھی نے جوا ب دیا یا رسول اللہ ﷺ ہما را ایک امیر اور سردار ہے جب ہم پھو لو ں کا رس چوستی ہیں تو ہمارا امیر آپ ﷺکی ذات مقدسہ پر درود پا ک پڑھنا شرو ع کرتا ہے اور ہم بھی اس کے ساتھ مل کر درود پا ک پڑھتی ہیں تو وہ بد مزہ اور کڑوے پھو لو ں کا رس درود پاک کی بر کت سے میٹھا ہو جا تا ہے اور اسی کی بر کت و رحمت کی وجہ سے وہ شہد شفا بن جا تا ہے ۔(مقاصد السا لکین ص۵۳)إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًاo (الاحزاب، 33 : 56) ترجمہ: بیشک اللہ اور ا س کے (سب) فرشتے نبیِ (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے رہتے ہیں، اے ایمان والو! تم (مکرمّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں