17

نئے کرنسی نوٹس، بلیک اکانومی اور منی لانڈرنگ: حکومتِ پاکستان اتنے نوٹ کیوں چھاپ رہی ہے؟

پاکستان میں زیر گردش نوٹوں کی تعداد میں حالیہ برسوں میں اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ 30 جون 2020 کو ختم ہونے والے مالی سال میں زیر گردش نوٹوں میں گزشتہ آٹھ برسوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا اور صرف ایک مالی سال میں گردشی نوٹوں کی تعداد میں 1.1 ٹریلین کا اضافہ ہوا۔

پاکستان میں معاشی حرکیات پر نگاہ رکھنے والے افراد کے نزدیک یہ اضافہ غیر معمولی ہے اور اس کے معیشت پر بھی منفی اثرات ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر گردشی نوٹوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ حکومت نے پرانے نوٹوں کو نئے نوٹوں سے بدلنے کے علاوہ نئے نوٹ بھی بڑی تعداد میں چھاپے ہیں۔

ان کے مطابق مارکیٹ میں نوٹوں کی طلب و رسد میں توازن برقرار رکھنے کے لیے معمول کے مطابق تو نئے نوٹ چھاپے جاتے ہیں جو کسی حد تک اضافے کا باعث بنتے ہیں تاہم غیر معمولی اضافے کا مطلب ہے کہ بہت زیادہ نوٹ چھاپے گئے۔

پاکستان میں نوٹ اور پرائز بانڈ چھاپنے کے لیے کاغذ تیار کرنے والے ادارے سکیورٹی پیپرز لمٹیڈ کے گزشتہ سال کے مالی نتائج میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج پر لسٹڈ کمپنی کے مالی نتائج کے مطابق اس کے منافع میں گزشتہ مالی سال میں ساٹھ فیصد سے زائد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں