10

مصباح الحق چیف سلیکٹر کے عہدے سے مستعفی، بطور ہیڈ کوچ ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے چیف سلیکٹر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بحیثیت ہیڈ کوچ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔

مصباح الحق نے یہ اعلان بدھ کی دوپہر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ 30 نومبر تک چیف سلیکٹر ہیں اور زمبابوے کے خلاف اسکواڈ کا انتخاب وہی کریں گے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں انٹرنیشنل کرکٹ کی وجہ سے مصروفیات بڑھ جائیں گی لہذا وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہیڈ کوچ کی حیثیت سے پاکستانی ٹیم پر اپنی مکمل توجہ مرکوز رکھیں اور چیف سلیکٹر کی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائیں۔

مصباح الحق نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم تینوں فارمیٹ میں صف اول کی تین بہترین ٹیموں میں آئے۔

مصباح الحق نے اپنی ایک سالہ کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سال اچھا رہا ہے اور اس میں کئی مثبت پہلو سامنے آئے۔

مصباح نے کہا کہ ان کی پوری کوشش تھی کی کہ جو بھی فیصلے کریں وہ پاکستانی کرکٹ کے بہترین مفاد میں ہوں۔

مصباح الحق گذشتہ سال چار ستمبر کو چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ مقرر کیے گئے تھے۔ اس سے قبل پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر تھے۔

پاکستان کی کرکٹ تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی ایک شخص کو بیک وقت یہ دو ذمہ داریاں سونپی گئیں۔

جس کمیٹی نے مکی آرتھر کا کوچ کی حیثیت سے معاہدہ تجدید نہ کرنے کی سفارش کی تھی، مصباح الحق اس کمیٹی کا حصہ تھے جبکہ اُن سے قبل چیف سلیکٹر کی ذمہ داریاں انضمام الحق نبھا رہے تھے۔

مصباح الحق کی بطور چیف سلیکٹر کارکردگی کیسی رہی؟

مصباح الحق کی بحیثیت چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ پہلی سیریز سری لنکا کے خلاف تھی جس میں پاکستانی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی سیریز کے تینوں میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا البتہ پاکستانی ٹیم ون ڈے سیریز دو صفر سے جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

ٹی ٹوئنٹی سیریز کے سلیکشن میں مصباح الحق اور کپتان سرفراز احمد کے درمیان اختلاف رائے سامنے آیا تھا۔

مصباح الحق نے اس سیریز میں عمراکمل اور احمد شہزاد کو پاکستانی ٹیم میں واپس لانے کا فیصلہ کیا جس پر کپتان سرفراز احمد خوش نہیں تھے۔

مصباح الحق کا یہ فیصلہ درست ثابت نہیں ہوا اور عمراکمل اور احمد شہزاد دونوں ان کے اعتماد پر پورے نہیں اترے لیکن اس کا خمیازہ سرفراز احمد کو بھگتنا پڑا تھا اور اسی سیریز کے نتیجے کو بنیاد بنا کر ان کی کپتانی چلی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں