11

شہباز شریف کے خلاف سات ارب کی کرپشن سے متعلق ریفرنس دائر ہو چکا، شہزاد اکبر

مشیر داخلہ اور احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کے خلاف سات ارب کی کرپشن سے متعلق ریفرنس دائر ہوچکا ہے، شہبازشریف اور اُن کے حواریوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے میڈیا سے گفتگو کے دوران اپوزیشن جماعت (پی ایم ایل این) کے صدر شہباز شریف سے متعلق کہا ہے کہ ہم الزامات نہیں لگا رہے بلکہ ٹھوس حقائق پر بات کرتے ہیں، یہ لوگ صرف قوم کو گمراہ کر رہے ہیں، شہباز شریف اور ان کے حواری بوکھلا چکے ہیں۔

شہزاد اکبر نےکہا ہے کہ 2015ء میں فوت ہوئے شوگرمل کے چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں 425 ملین جمع کروائے گئے، کیش بوائے مسرور انور کے نام پر فرنٹ اکاؤنٹ کھولا گیا، جسے سلیمان شہباز ڈیل کرتا تھا،  چھ جعلی کمپنیاں نہ ایس ای سی پی میں رجسٹر ہیں نہ ایف بی آر میں، کالا دھن نظام میں شامل کرکے سفید کر لیا جاتا ہے، کرتوت ان کے پکڑے جا رہے ہیں اوربھیس بدلنے کے الزام ہم پر لگ رہے ہیں۔

شہزاد اکبر نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ شہباز شریف اور ان کے حواریوں کے پاس کوئی جواب نہیں، ملازمین اور بے نامی لوگوں کے نام پر جعلی کمپنیاں بنائی گئیں، ملک مقصور نامی چپراسی کے نام پر 3.7 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی، ملک مقصود 2018 میں ملک سے فرار ہوگیا، اس کے ریڈ وارنٹ جاری کیے گئے اور رمضان شوگر مل کے لیے اظہر عباس کے اکاؤنٹ میں 1.67 ارب روپے جمع کرائے گئے۔

انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے مزید کہا کہ غلام شبر کے اکاؤنٹ میں 1.57 ارب روپے جمع کرائے گئے، رمضان شوگر کے کلرک اقرار کے اکاؤنٹ میں 1.18 ارب روپے جمع کرائے گئے، کلرک محمد انور کے اکاؤنٹ میں 88 کروڑ روپے جمع کرائے گئے،  کاشف مجید کے اکاؤنٹ میں 46 کروڑ روپے جمع کرائے گئے، رمضان شوگرمل کے چپراسی گلزار احمد کے اکاؤنٹ 425 ملین روپے جمع کرائے گئے، گلزار احمد 2015 میں فوت ہوگیا تھا، اس کے باوجود اکاؤنٹ آپریٹ ہوتا رہا۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اکاؤنٹ کھول کر ملازمین سے چیک بک لے لیتے تھے، یہ کاروبار کے پیسے نہیں تھے، چینی کے پیسے نہیں تھے، 3 ارب روپے کا تعلق شاید چینی سے ہو، مگر باقی رقم کا تعلق نہیں ہے، آپ جرائم پیشہ افراد کو تحفظ فراہم کرتے تھے اور پیسے لیتے تھے، تفتیش میں ایک شخص نے قبول کیا کہ ایک چیک اس نے خود شہباز شریف کو دفتر جا کر دیا تھا، وہ شخص جان کے تحفظ کے لیے اپنا نام سامنے نہیں لانا چاہتا۔

شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ سات ارب روپے 2010 سے 2018 میں چھ جعلی کمپنیوں میں ڈالے گئے، یہ کمپنیاں ایس ای سی پی اور ایف بی آر سے رجسٹرڈ نہیں تھیں، لیٹر ہیڈ بنا کر اکاؤنٹ کھولا جاتا تھا، وارث ٹریڈز میں 1.32 ارب روپے جمع کرائے گئے، راشد ٹریڈرز میں تقریبا ایک ارب روپے جمع کرائے گئے، توقیر الدین کے نام پر ٹی این اے کمپنی میں 145 ملین کی ٹرانزکشن ہوئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نیب کی عدالت میں جا کر ڈرامے کرتے ہیں، ابھی آپ کے کاروبار کا فرانزک ہونا، اس لیے ذہنی اضطراب کا شکار ہیں۔

شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ شہباز شریف 10 سال تک مسلسل پنجاب کے وزیر اعلی رہے، شہباز شریف خود کو خادم اعلی کہتے تھے، اپنے خاندان اور کاروبار کا نہیں پتہ تھا، کون آپ کے اکاؤنٹ میں پیسے جمع کراجاتا تھا، آپ کو علم نہیں تھا، آپ نے لندن میں چار فلیٹ کیسے لے لیے، اس کا جواب نہیں دیا، شہباز شریف کے مطابق ان کے ذرائع آمدن نہیں تھے، پھر فلیٹ کیسے لے لیے؟۔

شہزاد اکبر نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کی فیملی کے لوگ لندن میں گزر بسر کیسے کر رہے ہیں، ان کا گزر بسر کیسے ہو رہا ہے، مکانات کا کرائے کہاں سے دیتے ہیں؟ آپ وزٹ ویزے پر ہیں تو 6 ماہ سے زیادہ نہیں رہ سکتے، کیا آپ کا خاندان سٹیزن شپ حاصل کرچکا ہے؟ ۔

پریس کانفرنس کے دوران شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ ان لوگوں نے دونوں ہاتھوں سے لوٹا، اپنا پیٹ بھرا، دس جلسے کرو، لیکن اپنے پیسے سے کرو، کارکنوں سے رقم لے رہے ہیں، شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں کے پاس کسی سوال کا جواب نہیں ۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ شوگر ملوں کے ملازمین کے بے نامی اکاؤنٹس کھلوائے گئے ، ان ملازمین کے اکاؤنٹس میں 15 ارب روپے تھے، سلیمان شہباز کا ذاتی ٹی بوائے بے نامی اکاؤنٹ نکلنے پر ملک سے فرار ہوگیا، جعلی کمپنیاں ایف بی آر اور ایس ای سی پی سے رجسٹر بھی نہیں کرائی گئی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں